جمعہ‬‮   25   مئی‬‮   2018


کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں سینیٹرز کا چناؤ کیسے ہوتا ہے؟


اسلام آباد: (مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ الیکشن میں اراکین کے ووٹ ڈالنے کا طریقہ کار کیا ہے اور گنتی کیسے ہوتی ہے؟ قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ کیلئے عام نہیں بلکہ ترجیحی بیلٹ پیپرز تیار کیے جاتے ہیں۔ ہر کیٹگری کیلئے الگ الگ بیلٹ پیپر ہو گا جس پر امیدواروں کے صرف نام، حروف تہجی کے لحاظ سے اردو میں تحریر ہوتے ہیں۔ بیلٹ پیپر پر کسی امیدوار کا انتخابی نشان درج نہیں ہو گا۔ ووٹ پول کرنے والا رکن اسمبلی اپنے پسندیدہ امیدوار کے نام کے سامنے ہندسوں میں اپنی ترجیح لکھے گا، مثلاً اگر کسی کیٹگری میں 10 امیدوار ہوں تو ووٹر سب سے پسندیدہ امیدوار کو ایک جبکہ سب سے کم پسندیدہ امیدوار کو آخری نمبر دے گا۔ اگر ووٹر نے کسی بھی امیدوار کے نام کے سامنے پہلی ترجیح یعنی نمبر ایک نہیں لکھا اور باقی ترجیح لکھ دی تو اس کا مکمل ووٹ منسوخ کر دیا جائے گا۔ پولنگ کے اختتام پر ووٹوں کی گنتی کی جائے گی جس کا باضابطہ فارمولا طے شدہ ہے۔ امیدوار کے کل حاصل کردہ درست ووٹوں کو 100 سے ضرب دی جائے گی۔ حاصل کردہ جواب کو متعلقہ کیٹگری کی کل نشستوں میں ایک کا ہندسہ جمع کر کے تقسیم کیا جائے گا۔ پھر جو جواب ملے گا اس میں ایک کا ہندسہ مزید جمع کر دیا جائے گا۔ ترجیحی نمبر ایک پر درج امیدوار جب مطلوبہ ووٹ حاصل کر لے گا اس کے اضافی ووٹ اگلی ترجیح پر درج امیدوار کو منتقل ہو جائیں گے۔ اگر کسی امیدوار کے پاس اوپر والے ترجیحی نمبر کم ہوں اور اس کے بعد والے امیدوار کے پاس ترجیحی نمبر زیادہ آ جائیں تو نچلے مگر زیادہ ترجیحی نمبر لینے والا امیدوار کامیاب قرار پائے گا۔ اب کس امیدوار کو کیا ترجیح دینی ہے، سیاسی جماعتیں اپنے اپنے ارکان اسمبلی کے گروپس بنا کر بتا دیتی ہیں تا کہ ووٹ ضائع نہ ہوں اور امیدواروں کا درست انتخاب ہو۔ فاٹا میں سینیٹ انتخابات کے بیلٹ پیپر پر انتخابی نشان موجود ہو گا اور ووٹنگ کا عمل ترجیحی بنیادوں پر نہیں ہو گا۔ ہر ووٹر چار لوگوں کے نام کے سامنے نمبر لکھنے کے بجائے مہر لگائے گا، اگر پانچویں نام کے سامنے مہر لگائی تو ووٹ مسترد ہو جائے گا۔ فاٹا کے الیکشن میں صرف فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی ہی ووٹ ڈالیں گے جن کی اس وقت تعداد 11 ہے۔ ووٹ ضائع ہونے سے بچنے کے لیے فاٹا ووٹرز طے کر لیتے ہیں کہ انھوں نے کن کن امیدواروں کو ووٹ دینے ہیں۔ سینیٹ الیکشن میں ہر صوبے سے 7 جنرل، 2 علماء و ٹیکنوکریٹس جبکہ 2 خواتین سینیٹرز منتخب ہو ں گی۔ اسلام آباد سے ایک جنرل اور ایک ٹیکنوکریٹ جبکہ فاٹا سے چار سینیٹرز کا جنرل نشستوں پر انتخاب ہو گا۔ پنجاب اور سندھ اسمبلی کے اراکین اسمبلی، ایک ایک اقلیتی سینٹر کا بھی چناؤ کریں گے۔

Share

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین ویڈیو
روسی فوجی افسرکے آئی ایس آئی بارے تہلکہ خیزانکشافات...
دورحاضرکے دہشتگردوں بارے حضوراکرم ؐ کی پیش گوئی...
گھر کے مردوں کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون نیوز کاسٹر لائیو شو میں رو پڑ...
چارزندہ پیغمبر
قلوپطرہ ایک فتنہ پرورحسینہ جس نے اپنے بھائی سی شادی کی...
علامہ اقبال کے گھرآدھی رات کوجومہمان آئے تھے وہ کون تھے؟...
70واں یوم آزادی ،امریکیوں نے بڑاسرپرائز دیدیا...
کس نے نوازشریف کی تقریررکوائی جس میں انہوں نے دھمکیاں دیں...
پی ٹی آئی کے ایک ہی دن میں دووار،حناربانی کھرکے بعدایک اوراہم پی پی رہنماکی وکٹ ا...
جنرل راحیل کی دھمکی پر بھارتی پاگل ہوگئے،دیکھیں پاکستانی تجزیہ نگار نے بھی بھارتی ...

دلچسپ و عجیب

صحت

Forikhabar
            
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 forikhabar.com All Rights Reserved
error: Content is protected !!