اتوار‬‮   22   اپریل‬‮   2018


پاکستان کی تاریخ کا وہ واحد کیس جس کی سماعت سے یکے بعد دیگرے دو ججوں نے معذرت کر لی ؟ تفصیلات آپ کو بھی پریشان کر دیں گی


کراچی(ویب ڈیسک)ایگزیکٹ اسکینڈل کے گند میں عدالتوں کے جج بھی بہت محتاط رویہ اپنا رہے ہیں اور شعیب کی ضمانت کے حوالے سے سب سے زیادہ محتاط ہیں۔ جمعہ کو شعیب شیخ کی ضمانت کی اپیل کی سنوائی سندھ ہائی کورٹ کے معزز جج صلاح الدین پنہور کی عدالت میں ہوئی اور معزز جج نے معذرت کرتے ہوئےاپیل کی سنوائی دوسرے معزز جج

سعید جیسر کو بھیج دی۔ معزز جج سعید جیسر نے بھی معذرت کرتے ہوئے درخواست چیف جسٹس کو بھیج دی اور عدالتی وقت ختم ہونے کی وجہ سے التوا ہوگئی۔جسٹس سلیم جیسر نےشعیب احمدشیخ کی درخواست ضمانت سننے سے انکار کیااور قراردیاکہ شعیب شیخ کے مقدمے میں شریک ملزمان چندامنی ایکسچینج کےڈائریکٹرمحمد جنید اوربرانچ منیجرمحمد یونس کی درخواست جسٹس نذراکبرنےسنی تھی،ایگزیکٹ ڈگری اور منی لانڈرنگ کی عدالتی کارروائیوں پر کیا ہوتا رہا اس کی مختصر تفصیلات کچھ یوں ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ کے معزز جج نعمت اللہ پھلپھوٹو اور معزز جج شمس الدین عباسی نے کرمنل اپیل نمبر 390/2016 اور 60/2017 کی 26 فروری 2018 کو سنوائی کرتے ہوئے فیصلہ دیا۔ فیصلے کے آخر میں سب سے اہم بات یہ کہی گئی کہ کرمنل بریت اپیل نمبر 390/2016 اور 70/2017 منظور کی جاتی ہے۔ ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ملزم (شعیب شیخ) کی 3 مارچ 2018 کو چارج فریم کیا جائے اور تین ماہ میں فیصلہ سنایا جائے۔ اس فیصلے کی کاپی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سہیل محمد لغاری (جنہوں نے منی لانڈرنگ

کیس کو ختم کرکے ملزمان کو بری کردیا تھا) کو جن کی جہاں بھی پوسٹنگ ہو بھجوائی جائےتاکہ مستقبل میں ان کو رہنمائی ہو اور ان کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ مستقبل میں محتاط رہیں۔ فیصلے میں بریف فیکٹ (مختصر حقائق) میں معزز جج نے تحریر فرمایا کہ ایف آئی اے نے یہ ایف آئی آر درج کی کہ مورخہ 10 اپریل 2014 کو حبیب بینک لمیٹڈ، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی برانچ کراچی میں اکاؤنٹ نمبر 0541-79881074-03 بنام نسیم اختر (والدہ شعیب شیخ) کھولا گیا اور پھر اگلے ہی دن 11 اپریل 2014 کو شعیب شیخ نے اس اکاؤنٹ کو آپریٹ کرنے کا اختیار خود حاصل کرلیا۔ ملزم (شعیب شیخ) دبئی میں مقیم ایگزیکٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے وینڈرز کو رقوم بذریعہ ہنڈی حوالہ بھجواتا رہا۔ اس پر یہ الزام تھا کہ دبئی میں اسکے تین وینڈرز میسرز ذکی شاوی، واجد اور اسماعیل ڈاؤسری موجود تھے جن کو ہنڈی حوالے کے ذریعے رقوم بھیجی گئیں۔ ان رقوم کی منتقلی پاکستان میں موجود دیگر دو ملزمان محمد یونس اور محمد جنید (چندا منی ایکسچینج کے ڈائریکٹرز) کرتے رہے جو چیک جاری کیے جاتے تھے وہ ایک اور وینڈر ڈیکس کوریئر کے محمد علی اور دیگر ملازمین کے

حوالے کیے جاتے تھے جو وہ ملزمان محمد جنید اور محمد یونس کے حوالے کرتے تھے جو وہ کیش کروا لیتے تھے اور چیک کی کیش شدہ

فرم ہنڈی حوالے کے ذریعے دبئی بھجوا رہے تھے۔ اس ضمن میں 116 چیک ایف آئی اے نے ضبط کیے۔ (بعد میں انکی تعداد 207 ہوگئی) فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے 249-A سی آر پی سی کے تحت اپیل منظور کرتے ہوئے ملزم شعیب شیخکو 24 اگست 2016 کو بری کردیا جبکہ اس وقت تک چارج ہی فریم نہیں کیا گیا تھا۔ اسکے بعد معزز جج نے ٹرائل کورٹ کے جج (سہیل احمد لغاری) کے فیصلے کے مندرجات تحریر کیے ہیں۔ اسکے علاوہ دو گواہوں محمد آصف اور محمد علی میمن کے بیانات کا ذکر کیا گیا ہے۔ آگے چندا منی ایکسچینج کے ملزمان محمد یونس اور محمد جنید کی ٹرال کورٹ سے بریت اور جج کے فیصلے کو تحریر کیا گیا ہے جس میں یہ بھی ذکر ہے کہ چندا منی ایکسچینج کا ہنڈی حوالے میں کیا کردار رہا۔ فیصلے میں معزز سپریم کورٹ میں دائر ہیومن رائٹ کیس اپیل نمبر 2335/2018 پر عدالت کے فیصلے کے پیرے (Paras) بھی تحریر کیے گئے ہیں جن میں رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو جو ہدایت دی گئی ہیں ان کا ذکر ہے۔ فیصلے میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل سلمان طالب الدین کے دلائل کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا تھا

کہ بریت کا فیصلہ ناانصافی تھا کیونکہ قومی خزانے کو بھاری نقصان ہوا۔ ملزمان کو 249-A سی آر پی سی کے تحت بری کردیا گیا جبکہ 26 گواہوں کے بیان ہی نہیں ہوئے۔ شعیب شیخ نے اپنی والدہ کے نام سے اکاؤنٹ کھلوایا اور پھر اپنے نام سے آپریٹ کرتے ہوئے اپنے دستخط سے 116 چیک ایگزیکٹ کمپنی کے نام جاری کیے۔ ٹرائل کورٹ نے اس بات کا موقع ہی نہیں دیا کہ عدالت زبانی یا تحریری شواہد پیش کیے جائیں تاکہ کیس ثابت ہوتا۔ ٹرائل کورٹ نے ای میل، ٹیلی گرافک ٹرانسفر کے شواہد جو دوران تحقیقات ضبط کیے گئے تھے ان کو دروغ امتنا ہی نہیں سمجھا۔ ٹرائل کورٹ نے ایکسپرٹ کی رپورٹ کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہی نہیں بنایا۔ ٹرائل کورٹ کی فائنڈنگز برائے بریت درست نہیں تھیں۔ منی لانڈرنگ ری ٹرائل کرنے والی ایڈیشنل سیشن جج ساؤتھ V محترمہ مسز سارہ جونیجو نے یکم مارچ 2018 کو ضمانت پر ایک فیصلہ دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے وکیل نے ضمانت کے حق میں دلائل دیئے جبکہ ایف آئی اے کے وکیل نے مخالفت میں معزز جج صاحبہ نے مزید تحریر کیا کہ ریکارڈ کے مطابق اپیل کنندہ ملزم (شعیب شیخ) کو اسی عدالت کے سابقہ جج نے 24 اگست 2016 کو بری کردیا

جبکہ دیگر دو شریک ملزمان محمد جنید اور محمد یونس کو 22 نومبر کو بری کردیا گیا۔ مذکورہ فیصلوں کو سندھ ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کی کرمنل اپیل نمبر 390/2016 داخل ہونے کے بعدا یک طرف رکھتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو حکم دیا کہ چارج فریم کرتے ہوئے مقدمے کی قانون کے مطابق کارروائی شروع کی جائے۔ فیصلے میں مزید لکھا گیا کہ کئی گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں ہوا۔ مذکورہ جرم میں 170.17 ملین روپوں کی خطیر رقوم بیرون ملک منتقل کی گئی۔ ملزم نے کہیں بھی اپنے دفاع میں دشمنی کے حوالے سے شواہد پیش نہیں کیے تھے۔ مزید یہ کہ اپیل کنندہ ملزم (شعیب شیخ) اور دیگر دو شریک ملزمان کے جرائم کی نوعیت الگ ہے۔ فیصلے میں مزیدکہا گیا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ ضمانت کے حوالے سے ملزم جرم سے کتنا منسلک ہے۔ آخر میں ضمانت کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے محترمہ جج صاحبہ نے تحریر کیا کہ پرو زیکیوشن نے جو شواہد جمع کیے ہیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے اپیل کنندہ ملزم شعیب شیخ ضمانت کا حقدار نہیں اس لیے اسکی ضمانت کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ دوسری طرف سندھ ہائی کورٹ کے محترم جج نعمت اللہ پھلپھوٹو کے عدالت میں جو کارروائیاں ہوئیں ان کی مختصر تفصیلات کچھ یوں ہیں۔

12فروری 2018 کو آرڈر شیٹ میں تحریر کیا گیا کہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اور ملزم شعیب احمد شیخ کے وکیل شوکت حیات کے دلائل سنے۔ اپیل روزانہ سماعت کیلئے منظور کی جاتی ہے۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو ہدایت دی گئی کہ ملزم اور اس کے وکیل کو کرمنل بریت اپیل اور اس سے منسلک کاغذات کی کاپیاں فراہم کی جائیں۔ اگلی سماعت کی تاریخ 15 فروری مقرر کی گئی۔ اس مذکورہ تاریخ پر جج صاحب نے اپنی آرڈر شیٹ میں تحریر کیا کہ عدالت میں اسلام آباد میں ایگزیکٹ کے خلاف مقدمہ نمبر 56/2015 میں حامد علی شاہ کو بطور اسپیشل پبلک پراسکیوٹر تعیناتی کے کاغذات پیش کیے گئے۔ ملزمان کی طرف سے وکلاء نے اپنے وکیل مقرر کیے جانے کے کاغذات جمع کروائے جبکہ ملزمان عدالت سے غیر حاضر رہے جبکہ یہ بھی تحریر کیا گیا کہ معزز سپریم کورٹ کی ہدایت پر ایک ماہ کے اندر ہیومن رائٹ اپیل نمبر 2335/2018 کا فیصلہ کرنے کا ذکر کیا گیا۔ 20 فروری کو ملزم کے وکیلوں نے درخواست جمع کراوئی کہ وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے اس سے فوری سنوائی کی تاریخ 21 فروری رکھی جائے جو منظور کرلی گئی۔ 21 فروری کو جج صاحب نے عدالتی کارروائی کی آرڈر شیٹ پر تحریر فرمایا

کہ ملزم کے وکلاء نے سماعت مؤخر کرنے کی درخواست دی تھی کہ اُنہوں نے اس دن سپریم کورٹ میں اسی کیس سے متعلق حاضر ہونا تھا۔ ملزمان محمد جنید اور محمد یونس کے وکیل شوکت حیات عدالت میں حاضر ہوئے۔ حامد علی شاہ نے عدالت کو اطلاع دی کہ حکومت نے ان کو اسپیشل پبلک پراسکیوٹر مقرر کیا ہے جبکہ دونوں ملزمان محمد جنید اور محمد یونس بھی عدالت میں حاضر ہوئے۔ شعیب شیخ سپریم کورٹ میں حاضری کی وجہ سے عدالت میں غیر حاضر تھا۔ اگلی تاریخ 26 فروری مقرر کی گئی۔ مقررہ تاریخ کی آرڈر شیٹ میں عدالت نے حکم دیا کہ ٹرائل کورٹ 3 مارچ کو چارج فراہم کرے اور تین ماہ میں فیصلہ کرے۔ 10 مارچ 2018 کو اسسٹنٹ رجسٹرار کرمنل برانچ سندھ ہائی کورٹ نے پراسکیوٹر جنرل سندھ کو تحریری اطلاع دی کہ شعیب شیخ کی ضمانت کی درخواست 358/18 کی سنوائی 14 مارچ کو ہوگی۔ اس کے علاوہ جب ٹرائل کورٹ نے یکم مارچ 2018 کو ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم نامہ تحریر کیا تو اس پر جیل سپرنٹنڈنٹ نے تحریر کیا کہ ملزم کو مضبوط گاڑی اور بکتر بند میں عدالت میں لے جایا جائے۔کراچی سے اسٹاف رپورٹر کے مطابق جسٹس سلیم جیسرشعیب احمدشیخ کی درخواست ضمانت سننے سے انکار کردیااور قراردیاہےکہ شعیب شیخ کے مقدمے میں شریک ملزمان چندامنی ایکسچینج کےڈائریکٹرمحمد جنید اوربرانچ منیجرمحمد یونس کی درخواست جسٹس نذرا کبر نےسنی تھی۔ پہلے جس جج نےشعیب شیخ کےمقدمے میں شریک ملزمان کی درخواست سنی ہ ہی بینچ یہ درخواست سنے،فاضل جج نے شعیب احمد شیخ کی رہائی کی درخواست واپس چیف جسٹس کو بھیج دی۔

Share

اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین ویڈیو
دورحاضرکے دہشتگردوں بارے حضوراکرم ؐ کی پیش گوئی...
گھر کے مردوں کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون نیوز کاسٹر لائیو شو میں رو پڑ...
چارزندہ پیغمبر
قلوپطرہ ایک فتنہ پرورحسینہ جس نے اپنے بھائی سی شادی کی...
علامہ اقبال کے گھرآدھی رات کوجومہمان آئے تھے وہ کون تھے؟...
70واں یوم آزادی ،امریکیوں نے بڑاسرپرائز دیدیا...
کس نے نوازشریف کی تقریررکوائی جس میں انہوں نے دھمکیاں دیں...
پی ٹی آئی کے ایک ہی دن میں دووار،حناربانی کھرکے بعدایک اوراہم پی پی رہنماکی وکٹ ا...
جنرل راحیل کی دھمکی پر بھارتی پاگل ہوگئے،دیکھیں پاکستانی تجزیہ نگار نے بھی بھارتی ...
اگر ایاز صادق کے دل میں کھوٹ نہیں تھا تو پھر وہ عمران خان کا سامنا کرنے سے کیوں بھاگ...

دلچسپ و عجیب

صحت

Forikhabar
            
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 forikhabar.com All Rights Reserved
error: Content is protected !!