300-320 certification material 1Z0-061 book CCBA course 98-367 software tutorial

منگل‬‮   18   جنوری‬‮   2022


عمران خان کی ٹیکس ادائیگی کی تفصیلات پر سوشل میڈیا صارفین کے تبصرے و سوالات


ٹیکس ڈائریکٹری سال 2019 کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی آمدنی چار کروڑ 35 لاکھ روپے تھی اور انھوں نے سال 2019 میں 98 لاکھ 54 ہزار 959 روپے ٹیکس ادا کیا۔ اس بارے میں سوشل میڈیا صارفین مختلف سوالات اور تبصرے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ویسے تو ہر سال آپ یہ سنتے ہیں کہ کون سے سیاستدان نے سب سے زیادہ ٹیکس دیا اور کس

نے سب سے کم لیکن اس برس ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس ڈائریکٹری 2019 کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں جس کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کتنا ٹیکس دیتے ہیں، ان کی پچھلے تین برسوں کے دوران ٹیکس ادائیگی اور آمدن کیا رہی اور پھر یکایک ان کی جانب سے ٹیکس کی ادائیگی میں اتنا بڑا فرق کیسے آ گیا؟ تو جناب معاملہ یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے ایف بی آر کی ویب سائٹ پر ٹیکس ڈائریکٹری کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں جس میں آپ کو پاکستان کے ارکان پارلیمان کے ٹیکس گوشواروں کی فہرست دکھائی دے گی۔ اس فہرست میں وزیر اعظم عمران خان کا نام آپ کو 104ویں نمبر پر ملے گا۔ ٹیکس ڈائریکٹری سال 2019 کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی آمدنی چار کروڑ 35 لاکھ روپے تھی اور انھوں نے سال 2019 میں 98 لاکھ 54 ہزار 959 روپے ٹیکس ادا کیا۔ ایف بی آر کی فہرست میں دی گئی تفصیل کے مطابق وزیراعظم کی نارمل آمدن تین کروڑ نواسی لاکھ سات سو چوہتر بتائی گئی ہے جبکہ پریزیمپٹو آمدن بائیسں لاکھ اکیاسی ہزار آٹھ سو چھتیسں ہے۔ وزیراعظم نے زرعی اراضی پر تئیس لاکھ

چونسٹھ ہزار ایک سو پچاس روپے ادا کیے۔ اگر ہم سال 2018 کی ایف بی آر رپورٹ دیکھیں تو عمران خان جب این اے 95 سے منتخب رکن تھے تو انھوں نے دو لاکھ بیاسی ہزار چار سو انچاس روپے ٹیکس ادا کیا تھا۔ لیکن سال 2017 میں عمران خان نے ایک لاکھ تین ہزار سات سو تریسٹھ روپے انکم ٹیکس ادا کیا تھا۔ ایف بی آر کی جانب سے اراکین پارلیمان کے انکم ٹیکس کی تفصیلات پچھلے چھ سال سے جاری کی جا رہی ہیں۔ ایف بی آر نے رواں برس اراکین کی جانب سے ادا کیے جانے والے انکم ٹیکس کے علاوہ پہلی بار ان کی آمدن، پریزیمپٹو انکم، اور زرعی آمدن کی تفصیلات بھی جاری کی ہیں۔ پریزیمپٹو ٹیکس وہ ٹیکس ہوتا ہے جب ود ہولڈنگ ٹیکس کو کچھ خاص حد تک وصولی کے بعد کاٹ دیا جاتا ہے تو پھر متعلقہ شخص کی آمدن کا اندازہ لگایا لیا جاتا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کے تین برسوں کے دوران ادا کیے جانے والے ٹیکس میں فرق اورخصوصاً 2018 اور 2019 کے ادا کردہ ٹیکس میں اضافے کے بعد سوشل میڈیا صارفین ایک جانب یہ سوال پوچھتے دکھائی دیتے ہیں کہ وزیر اعظم نے ایسا کون کا کاروبار شروع کیا کہ ان کی ایک سال میں آمدن اتنی بڑھ گئی

تو دوسری جانب ان کے حامی ان کے اس قدم کو سراہاتے نظر آتے ہیں۔ کہیں کچھ سیاس حریف طنز بھی کر رہے ہیں۔ لیکن کچھ بھی ہو ان کی ٹیکس ادائیگی کی جاری کردہ تفصیلات سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنی ہوئی ہیں۔ ابراہیم نامی صارف نے ایف بی آر کی فہرست اور وزیر اعظم کے ٹیکس کو حیران کن قرار دیا۔ انھوں نے ایک سال کے وقفے سے وزیر اعظم کا ٹیکس تقریباً تین لاکھ سے اٹھانوے لاکھ تک چلے جانے پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ‘ہمارے سیاستدان کے انکم ٹیکس گوشواروں کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں جو بہت حیران کن ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے سنہ 2018 میں 283449 ٹیکس ادا کیا اور ایک برس بعد ہی سنہ 2019 میں انھوں نے انکم ٹیکس کی مد میں اٹھانوے لاکھ روپے ادا کیے۔‘ ایک اور صارف نے وزیر اعظم کے سنہ 2018 میں تین لاکھ ٹیکس کا موازانہ 2019 کے ٹیکس واجبات سے کرتے ہوئے لکھا کہ’تو ایک سال میں وزیراعظم کی آمدن تقریباً 100 فیصد بڑھ گئی ہے واہ کیا بات ہے۔‘ صارف ارسلان نے سوال کیا کہ ’عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو لاکھ روپیہ ٹیکس ادا کیا کرتے تھے جب وہ وزیر اعظم بنے تو ایک کروڑٹیکس

ادا کرنے لگے۔ انھوں نے وزیراعظم بننے کے بعد ایسا کیا کاروبار شروع کیا ہے کہ ان کی آمدن اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے۔‘ ایسے موقع پر وزیر اعظم عمران خان اور ان کی جماعت کے سیاسیحریف کیسے پیچھے رہ سکتے تھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے بھی طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے وزیر اعظم کےتین سال کے دوران ٹیکس اداییگی کی ٹائم لائن کے بارے میں لکھا ‘اسے کہتے ہیں اقتدار کا جادو ۔۔۔’ لیکن صارف اصغر رضوان کہتے ہیں کہ مجھے یقین ہے کہ وزیراعظم نے اپنے ٹیکس گوشوارے ظاہر کیے ہوں گے اور کوئی بھی انھیں دیکھ سکتا ہے کہ ان کی آمدن کا ذریعہ کیا ہے؟ مگر وزیراعظم کے مداح حالیہ ٹیکس سے سابقہ کا موازنہ نہیں کرتے۔ جیسے ایک صارف نے لکھا ’یہ ان کو جواب ہے جو وزیراعطم کا ذریعہ آمدن پوچھتے ہیں۔۔۔‘ کس رکن پارلیمان نے کتنا ٹیکس ادا کیا؟ جہاں ایک جانب جون 2018 کے مقابلے میں سنہ 2019 میں وزیر اعظم کی جانب سے ٹیکس ادائیگی میں تقریباً 172 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے وہی مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے ارکان پارلیمان کی فہرست میں

ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے توقع ظاہر کی ہے کہ حکومت اس معاملے میں از خود نوٹس لے گی وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کی جانب سے جاری کردہ پارلیمنٹیرینز کی چھٹی ٹیکس ڈائریکٹری کے مطابق، خاقان عباسی نے 2018 میں سب سے زیادہ 241.32 ملین روپے ٹیکس ادا کیا جو کہ 2017 میں 3.08 ملین روپے تھا جب وہ وزیر اعظم تھے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ارکان پارلیمان میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایم این اے محمد نجیب ہارون ہیں جنھوں نے 140.03 ملین روپے ادا کیے، اس کے بعد وزیر قانون اور متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر فروغ نسیم ہیں جنھوں نے 35.13 ملین روپے ٹیکس ادا کیا۔ مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی آمدنی پانچ کروڑ 63 لاکھ روپے تھی اور انھوں نے 82 لاکھ 42 ہزار روپے ٹیکس دیا۔ پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زرداری کی آمدنی 28 کروڑ 26 لاکھ روپے تھی اور انھوں نے22 لاکھ 18 ہزار روپے ٹیکس دیا۔ ان کے علاوہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی سال 2019 کی آمدنی

تین کروڑ 81 لاکھ روپے تھی اور بلاول نے سال 2019 میں 5 لاکھ 35 ہزار روپے ٹیکس دیا۔ ٹیکس ڈائریکٹری سال 2019 کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکی آمدنی نو لاکھ 38 ہزار روپے تھی اور عثمان بزدار نے سال 2019 میں 2 ہزار روپے ٹیکس دیا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی آمدنی پانچ کروڑ 70 لاکھ روپے تھی اور انھوں نے 10 لاکھ 99 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی آمدنی 25 لاکھ 80 ہزار روپےتھی اور انھوں نے 66 ہزار 258 روپے ٹیکس ادا کیا۔ گذشتہ سال منتخب ہونے والے وزیراعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو کی آمدنی 78 لاکھ 58 ہزار روپے تھی اور انھوں نے سال 2019 میں 10 لاکھ 61 ہزار روپے ٹیکس دیا۔


اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین ویڈیو
کوہلی کی غصے سے گرائونڈ میں داخل ہونے کی کوشش...
بھارتیوجھوٹ بولنابندکرو،آپ نے پاکستان کاکوئی ایف 16نہیں گرایا...
Most Beautiful Azan -Mashallah

دلچسپ و عجیب

صحت

Copyright © 2017 www.forikhabar.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us