300-320 certification material 1Z0-061 book CCBA course 98-367 software tutorial

اپنی چھتری خود نہ اٹھانے پر سوشل میڈیا صارفین اور صحافیوں کی شاہ محمود پر تنقید - Forikhabar
جمعہ‬‮   23   اپریل‬‮   2021


اپنی چھتری خود نہ اٹھانے پر سوشل میڈیا صارفین اور صحافیوں کی شاہ محمود پر تنقید


اسلام آباد(ویب ڈیسک )شاہ محمود قریشی اپنی چھتری خود نہ اٹھانے پرتنقید کی زد میں آ گئےہم سے بہت زیادہ ترقی یافتہ ملک کے وزیر خارجہ کو اپنی چھتری اٹھاتے ہوئے شرم محسوس نہیں ہو رہی مگر پاکستان کے وزیر خارجہ اپنی چھتری اٹھاتے ہوئے عار محسوس کر رہے ہیں، سوشل میڈیا صارفروس کے وزیر خارجہ سرگئی لیوروف دو روزہ دورے پر

پاکستان تشریف لائے ہیں جبکہ ان کے استقبال کے موقع پر اپنی چھتری نہ پکڑنے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی شدید تنقید کہ زد میں ہیں۔تفصیلات کے مطابق روسی وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران شاہ محمود قریشی اپنی چھتری خود نہ اٹھانے پرتنقید کی زد میں آ گئے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی آج روسی ہم منصب سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے روسی ہم منصب اور ان کے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ روس میں تعینات پاکستانی سفیر شفقت علی خان اور وزارت خارجہ کے سینیئرافسران بھی وزیرخارجہ کے ہمراہ تھے۔اسلام آباد ائیرپورٹ پر پاکستانی وزیر خارجہ کی جانب سے روسی ہم منصب کے استقبال کی ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ویڈیو اور تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہےکہ شاہ محمود قریشی سرگئی لاوروف کے استقبال کے لیے آئے تو اس وقت بارش ہورہی تھی جس کے باعث ایک شخص نے چھتری اٹھارکھی تاکہ پاکستانی وزیر خارجہ بارش میں بھیگ نہ جائیں۔سوشل میڈیا صارفین نے تنقید

کی ہے کہ اگر روسی وزیر خارجہ خود چھتری اٹھاسکتے ہیں تو شاہ محمود کیوں نہیں؟سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی جارہی ہے اور کہا جارہا ہےکہ روس جیسے بڑے ملک کا وزیر خارجہ جب خود چھتری اٹھاسکتا ہے تو پاکستانی وزیر خارجہ ایسا کیوں نہیں کرسکتے۔اقرارالحسن نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس بس یہی شب شبا، ششکے اور پروٹوکولز ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اپنی چھتری خود اُٹھانے والے وزیرِ خارجہ کا ملک ویکسین بنا رہا ہے اور اپنی چھتری دوسروں سے اُٹھوانے والے وزیرِ خارجہ کا ملک اُس ملک سے ویکسین خرید رہا ہے۔ قوموں کا مزاج ہی اُن کے مقام کا تعین کرتا ہے۔صحافی وسیم عباسی نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی بڑی فوجی اور معاشی طاقت روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاروف اپنی چھتری خود اٹھاکر جہاز سے باہر آرہے ہیں جبکہ مقروض ترین ملک کے گدی نشین وزیرخارجہ نے چھتری اٹھانے کیلئے ملازم ساتھ رکھا ہوا ہے۔وسیم عباسی کا مزید کہنا تھا کہ یہی فرق ہوتا ہے امیرریاست کے حکمران اور غریب ریاست کےحکمران میںایکسپریس کے صحافی رضوان علی غلیزئی نے لکھا کہ صاحب بہادر کو اپنی

چھتری پکڑتے ہوئے بھی توہین محسوس ہوتی ہے جبکہ روسی وزیرخارجہ اپنی چھتری خود تھامے جہاز سے اترے۔رؤف کلاسرا نے تیقید کرتے ہوئے کہا کہ روسی وزیرخارجہ نے اپنی چھتری خود پکڑرکھی ہے جبکہ پاکستانی وزیرخارجہ نے چھتری اٹھانے کیلئے سرکاری ملازم رکھا ہوا ہے۔ایک صارف کا کہنا تھا کہ ہم سے بہت زیادہ ترقی یافتہ ملک کے وزیر خارجہ کو اپنی چھتری اٹھاتے ہوئے شرم محسوس نہیں ہو رہی مگر پاکستان کے وزیر خارجہ اپنی چھتری اٹھاتے ہوئے عار محسوس کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ پاکستانی وزرا، بیوروکریٹس اور دیگر حکام اکثر اس طرح کی تنقید کا نشانہ بنتے ہیں، لیکن باوجود تنقید کے اپنا طرز عمل درست نہیں کیا جاتا، ا س حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی تازہ مثال سامنے ہے۔


اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین ویڈیو
کوہلی کی غصے سے گرائونڈ میں داخل ہونے کی کوشش...
بھارتیوجھوٹ بولنابندکرو،آپ نے پاکستان کاکوئی ایف 16نہیں گرایا...
Most Beautiful Azan -Mashallah

دلچسپ و عجیب

صحت

Copyright © 2017 www.forikhabar.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us