300-320 certification material 1Z0-061 book CCBA course 98-367 software tutorial

کیا شوگر کے مریض میٹھے آم کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ جانیں ڈاکٹر کی بتائی گئی اہم معلومات جو بہت سے لوگ نہیں جانتے - Forikhabar
منگل‬‮   27   جولائی   2021


کیا شوگر کے مریض میٹھے آم کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ جانیں ڈاکٹر کی بتائی گئی اہم معلومات جو بہت سے لوگ نہیں جانتے


آم ایک ایسا پھل ہے جس کو کھائے بغیر کوئی نہیں رہ سکتا۔ اس کا ذائقہ اتنا میٹھا ہوتا ہے کہ کھانے والا اس کی لذت میں گم ہوجاتا ہے۔ ٹھیلوں پر رکھے آموں کی خوشبو ہی آپ کو انہیں خریدنے ہر مجبور کر دیتی ہے۔ یہی چند وجوہات ہیں جس کی وجہ سے آم کو تمام پھلوں کو بادشاہ قرار دیا جاتا ہے۔لیکن یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ کیا ذیابطیس کے

مریض رسدار آموں کے ذائقے سے مستفید ہوسکتے ہیں یا نہیں؟ آج ہم اسی حوالے سے جانیں گے۔طبی ماہرین کے مطابق شوگر کے مریضوں کو اپنے خون کا گلوکوز لیول قابو میں رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ بات ضروری ہے کہ ان کی غذا بھی ایسی ہو جو بلڈ لیول کو کنٹرول رکھ سکے۔ تو ایسے مریضوں کے لیے 15 گرام کاربوہائیڈریٹ کسی پھل کے ذریعے جسم کا حصہ بننا نقصان دہ نہیں، آسان الفاظ میں ذیابیطس کے شکار افراد آم کھاسکتے ہیں مگر محدود مقدار میں۔اب یہاں ضرور آپ یہی سوچ رہے ہوں گے کہ آم کا استعمال کتنی مقدار میں کر سکتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق آم کا ایک ٹکڑا یا کٹے ہوئے آم کا آدھا چھوٹا کپ کھایا جاسکتا ہے، مگر آم کا شیک، جوس وغیرہ نہیں پینا چاہیئے۔پھلوں کا بادشاہ آم انسانی صحت کے لیے متعدد فوائد کا حامل ہے کیونکہ یہ غذائی نالی کے افعال کو متحرک رکھتا ہے، جبکہ فائبر سے بھرپور ہونے کے باعث بھی نظام ہاضمہ کے لیے فائدہ مند ہے، اس کے ذریعے وٹامن سی جسم کو فراہم ہوتا ہے جو کہ جسمانی دفاعی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔آم میں موجود بیٹا کیروٹین آنکھوں کی صحت کو بہتر بناتا ہے اور اس سے

ہٹ کر بھی آم کھانا کئی فوائد پہنچاتا ہے۔اس کے علاوہ ماہرین کی جانب سے بتایا جاتا ہے کہ زیادہ پکے ہوئے آم میں مٹھاس زیادہ ہوتی ہے، کچے آم ذیابیطس کے مریضوں کے لیے زیادہ محفوظ ہوتے ہیں۔


اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین ویڈیو
کوہلی کی غصے سے گرائونڈ میں داخل ہونے کی کوشش...
بھارتیوجھوٹ بولنابندکرو،آپ نے پاکستان کاکوئی ایف 16نہیں گرایا...
Most Beautiful Azan -Mashallah

دلچسپ و عجیب

صحت

Copyright © 2017 www.forikhabar.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us