300-320 certification material 1Z0-061 book CCBA course 98-367 software tutorial

نیند کی کمی کا شکار افراد کیلئے بری خبر، ماہرین نے تحقیق میں خوفناک انکشاف کرڈالا - Forikhabar
منگل‬‮   27   جولائی   2021


نیند کی کمی کا شکار افراد کیلئے بری خبر، ماہرین نے تحقیق میں خوفناک انکشاف کرڈالا


اسلام آباد(نیو زڈیسک)رات کی نیند میں خلل پڑنا یا کم نیند آنا آج کل ہر شخص کا مسئلہ ہے تاہم اب ماہرین نے اس حوالے سے تشویشناک خبر دی ہے۔برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جن افراد کو رات میں نیند نہیں آتی یا آدھی رات کو جاگ جاتے ہیں، ان میں جلد موت کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔اس تحقیق میں 5 لاکھ درمیانی عمر کے افراد کو شامل کیا گیا تھا اور

دریافت کیا گیا کہ نیند کے مسائل سے دوچار افراد بالخصوص ذیابیطس کے مریضوں میں اس کے نتیجے میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 87 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ ہم پہلے سے ہی جانتے ہیں کہ نیند کی کمی اور خراب صحت کے درمیان مضبوط تعلق موجود ہے مگر نئے نتائج چونکا دینے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کے نیند کے مسائل کو بہت سنجیدہ لینا چاہیئے تاکہ ان میں خطرے کو کم کیا جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ ذیابیطس سے ویسے ہی مختلف امراض سے موت کا خطرہ 67 فیصد تک بڑھ جاتا ہے مگر ایسے مریضوں کو بے خوابی یا نیند کے دیگر مسائل کا سامنا ہو ان کے لیے یہ خطرہ 87 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔اس سے قبل 2019 میں کیلی فورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ محض ایک رات کو کم سونے سے بھی ذہنی بے چینی، خوف یا اعصابی خلل کا خطرہ 30 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔طبی جریدے جرنل نیچر ہیومن بی ہیوئیر میں شائع تحقیق میں ماہرین کا کہنا تھا کہ ہم نے گہری نیند کا ایک نیا فائدہ دریافت کیا ہے جو رات بھر میں دماغی کنکشن دوبارہ منظم کر کے ذہنی تشویش اور بے چینی کو کم کردیتا ہے۔انہوں نے بتایا

کہ گہری نیند ذہنی بے چینی کی روک تھام میں مددگار ہے، جب تک ہم ہر رات ایسا کرتے رہیں۔ آسان الفاظ میں نیند دوا کے بغیر ہی ذہنی بے چینی، خوف و اعصابی خلل کے امراض کا علاج ہے، ان امراض کا شکار دنیا بھر میں کروڑوں افراد ہیں۔


اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین ویڈیو
کوہلی کی غصے سے گرائونڈ میں داخل ہونے کی کوشش...
بھارتیوجھوٹ بولنابندکرو،آپ نے پاکستان کاکوئی ایف 16نہیں گرایا...
Most Beautiful Azan -Mashallah

دلچسپ و عجیب

صحت

Copyright © 2017 www.forikhabar.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us