300-320 certification material 1Z0-061 book CCBA course 98-367 software tutorial

منگل‬‮   30   ‬‮نومبر‬‮   2021


مجھے شوہر نے تین ماہ کی بیٹی کے ساتھ گھر سے نکال دیا۔۔۔ شیلٹر ہوم میں رہنے والی 3 ایسی خواتین کی داستان جنھیں لوگ بوجھ سمجھ کر یہاں چھوڑ جاتے ہیں


“میں پاگل نہیں ہوں لیکن23 سال پہلے جب یہاں آئی تھی تو بہت برے حالوں میں تھی۔ شوہر نے بدکرداری کا الزام لگا کر مجھے گھر سے نکال دیا تھا۔ اس وقت میری بیٹی صرف تین مہینے کی تھی۔ پھر میں بلقیس ایدھی شیلٹر ہوم داخل ہوگئی۔“ اپنی زندگی کی دکھی داستان سنانے والی ان خاتون کا نام صبیحہ انوار ہے۔ ان کی عمر اب پچاس سال ہے اور اس لحاظ سے

صبیحہ نے زندگی کا زیادہ حصہ ایدھی شیلٹر ہوم میں گزارا ہے۔ صبیحہ مزید کہتی ہیں کہ “’پہلے میری طبیعت بہت خراب رہتی تھی۔ یہاں آ کر مجھے آرام ملا اب میں ’سیٹ‘ رہتی ہوں۔ یہاں کے ڈاکٹروں اور نرسوں نے مجھے موقع دیا ہے تو میں اُن کی مدد کرتی ہوں۔ میں ٹمپریچر لے لیتی ہوں، بی پی چیک کر لیتی ہوں اور شوگر بھی چیک کرسکتی ہوں۔ اِس کے علاوہ کوئی اور ’لُک آفٹر‘ کرنا ہو تو کر لیتی ہوں“ ان کی تین ماہ کی اکلوتی بیٹی اب تئیس سال کی ہے اور نفسیات میں بی اے کررہی ہے۔ صبیحہ کی بیٹی اب اپنی ماں کو گھر لے کر جانا چاہتی ہے لیکن صبیحہ کو لگتا ہے اب گھر میں ان کا دل نہیں لگے گا اس لئے وہ ہمیشہ ایدھی شیلٹر ہوم میں رہنا چاہتی ہیں۔ یہ کہانی صرف ایک صبیحہ کی ہی نہیں بلکہ پاکستان میں ذہنی امراض میں مبتلا خواتین کی سب سے بڑی پناہ گاہ بلقیس ایدھی شیلٹر ہوم میں داخل ہونے والی تمام 1200 عورتیں اپنے ساتھ ایک کہانی رکھتی ہیں۔ برطانوی خبررساں ادارےکے مطابق پاکستان میں بیس کروڑ میں سے دو سو کروڑ افراد کسی نہ کسی صورت ذہنی امراض کا شکار ہیں۔ البتہ ان کے علاج کے لئے ماہر نفسیات آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ اکثر خواتین

شدید ذہنی بیمار ہوتی ہیں یہاں داخل ہونے والی ہر عورت ایک الگ کہانی رکھتی ہے۔ کچھ خواتین مسلسل چلاتی رہتی ہیں جبکہ چند عورتیں اپنے آپ سے باتیں کرتی ہیں یا خلا میں گھورتی ہیں، زور زور سے ہنستی ہیں یا کمرے میں گول گول گھومتی ہیں۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جس میں عمر یا طبقے کی کوئی قید نہیں۔ البتہ ایسی خواتین کی بھی کمی نہیں جو صرف سہارے اور چھت کے آسرے میں یہاں رہتی ہیں۔ ان کے مسائل زیادہ تر شوہر کی بیوفائی یا بے اولادی سے تعلق رکھتے ہیں۔ شوہر نے ہاکیوں سے مارا ایک اور خاتون نصرت نے بتایا کہ ان کی شادی سن دو ہزار میں ہوئی اور گیارہ سال تک معاملات صحیح چلتے رہے لیکن پھر شوہر نے مار پیٹ شروع کردی۔ ہاکیوں سے اتنا مارا کہ ان کے گھٹنے ٹوٹ گئے یہاں تک کہ وہ کھڑے ہو کر نماز بھی نہیں پڑھ سکتی تھیں پھر گھر والے انھیں یہاں چھوڑ گئے۔ اب ان کی بھابھی ہر مہینے انھیں پندرہ سو جیب خرچ اور کپڑے اور ضرورت کی چیزیں دے کر جاتی ہیں۔ یہی ان کی زندگی ہے۔ بے اولادی کا صدمہ چالیس سالہ شگفتہ کمال نقوی اس شیلٹر ہوم میں چھ سالوں سے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کے شادی ہونے کے سات سالوں تک اولاد نہیں ہوئی

جس کی وجہ سے مجھے صدمہ ہوگیا تھا اسی وجہ سے شوہر نے طلاق دے دی۔ میری حالت ٹھیک نہیں تھی اس لئے ابو نے یہاں داخل کروادیا۔ شگفتہ کہتی ہیں کہ ان کے گھر والے انھیں بہت یاد آتے ہیں۔ ان کی بہن ملنے آتی ہے تو کہتی کہ جیسے ہی گھر کے حالات ٹھیک ہوئے وہ اسے واپس لے جائیں گی۔ ادارے میں کیا ہوتا ہے؟ ڈاکٹر نسیم عتیق اس ادارے کی نگراں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب مریضہ یہاں آتی ہے تو اس کی حالت کافی خران ہوتی ہے “کچھ ایسے مریض ہوتے ہیں جنھیں اُن کے گھر والے ہر طرف سے مایوس ہو کر ہمارے پاس لاتے ہیں۔ کچھ رسیوں اور زنجیروں میں بندھے ہوتے ہیں۔ کسی کے جسم میں کیڑے پڑے ہوتے ہیں۔ بال اِس قدر اُلجھے ہوتے ہیں کہ کٹوانے کی نوبت آتی ہے۔ کچھ عورتیں گھر والوں کے ذریعے یہاں آتی ہیں۔ کچھ گھر والوں کے رویے سے پریشان ہو کر یہاں آ جاتی ہیں۔ کچھ تو ایسی ہیں جو خود آ کر داخل ہو جاتی ہیں۔ کچھ سڑکوں سے ملتی ہیں۔ اِن میں سے اکثر پولیس کے ذریعے سے ہم تک پہنچتی ہیں۔ کچھ کو کوئی اجنبی ہمدردی کے جذبے کے تحت داخل کروا جاتا ہے“ علاج کیسے ہوتا ہے؟ شروع میں ہر مریضہ کو ماہرین کی گہری نگرانی میں

رکھا جاتا ہے۔ زیادہ تر خواتین سکٹنروفرینیا اور مینٹل ریٹارڈیشن میں مبتلا ہوتی ہیں۔ ان کی کیفیت ایسی ہوتی ہے کہ یہ اپنے حواس میں نہیں ہوتیں۔ کچھ کو آوازیں سنائی دیتی ہیں یا کچھ شک کرتی ہیں اور چند خواتین اپنی یادداشت بھی بھول جاتی ہیں۔ البتہ علاج کے بعد جب وہ تھوڑی بہتر ہوجاتی ہیں یا اس قابل ہوجاتی ہیں تو وہ ڈاکٹروں اور شیلٹر ہوم کی مدد کرتی ہیں۔ ماہر نفسیات ڈاکٹر کلشوم لاشاری کا کہنا ہے کہ نفسیاتی بیمار خواتین کو پاگل نہیں کہا جاسکتا۔ ان میں سے زیادہ تر صرف کسی ذہنی تناؤ کا شکار ہوتی ہیں جس کا علاج ممکن ہوتا ہے۔ لوگوں کو ضرورت ہے کہ اپنا رویہ نفسیاتی مریضوں کے لئے تبدیل کریں۔ اگر صرف ان سے اچھی طرح پیش آیا جائے تو یہاں داخل کروانے کی نوبت ہی نہ آئے۔ ہر مریضہ اپنے خاندان والوں کو ضرور یاد کرتی ہے جبکہ گھر والوں سے رابطہ کیا جائے تو وہ زیادہ تر اپنی مریضہ کو قبول کرنے سے انکار کردیتے ہیں۔ شیلٹر ہوم کے دن رات کا معمول بلقیس ایدھی شیلٹر ہوم میں ہر کام کا وقت مقرر ہوتا ہے۔ ناشتہ، کھانا شام کی چائے، ٹی وی دیکھنے اور عبادات ہر کام کے لئے باقاعدہ ٹائم ٹیبل ہوتا ہے۔ ہر وارڈ میں ایک درجن خواتین رہتی ہیں۔

بے شک بے سہارا خواتین کے لئے یہ ادارہ ایک روشنی کی کرن ہے جو بھلے چندے سے چلتا ہے لیکن انھیں عزت سے چھت اور علاج کی سہولت دیتا ہے۔


اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین ویڈیو
کوہلی کی غصے سے گرائونڈ میں داخل ہونے کی کوشش...
بھارتیوجھوٹ بولنابندکرو،آپ نے پاکستان کاکوئی ایف 16نہیں گرایا...
Most Beautiful Azan -Mashallah

دلچسپ و عجیب

صحت

Copyright © 2017 www.forikhabar.com All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Disclaimer | Contact Us