300-320 certification material 1Z0-061 book CCBA course 98-367 software tutorial

کہیں آپ کے پیروں کے ناخنوں میں فنگس تو نہیں اگر ہے تو اس سے جلد چھٹکارا پائیں مگر کیسے، جانیں - Forikhabar
اتوار‬‮   15   دسمبر‬‮   2019


کہیں آپ کے پیروں کے ناخنوں میں فنگس تو نہیں اگر ہے تو اس سے جلد چھٹکارا پائیں مگر کیسے، جانیں


پیروں کی انگلی میں فنگس یا onychomycosis بہت عام مرض ہے جس کی وجہ علامت پیروں کے ناخنوں میں سفید، بھورے یا زرد رنگ کے دھبے ابھر آنا ہے۔اس بیماری کے نتیجے میں ناخن موٹے یا ٹوٹنے لگتے ہیں اور کوئی بھی فرد اسے اپنے پیروں میں دیکھنا پسند نہیں کرے گا۔اس مرض کے دوران ورم، ان کی موٹائی بڑھنے، زنگت بدلنا اور انگلیوں

میں درد وغیرہ کا تجربہ ہوتا ہے۔ایسا عام طور پر پیروں کی صفائی کا خیال نہ رکھنا، جسمانی دفاعی نظام میں کمزوری، پیروں کا بہت زیادہ نم جگہ پر رہنا یا دوران خون کی ناقص گردش کے باعث ہوتا ہے۔تاہم اچھی بات یہ ہے کہ چند گھریلو ٹوٹکے ایسے ہیں جو اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، جن کی سائنس بھی تصدیق کرتی ہے۔(وکس)وکس ہر جگہ دستیاب عام چیز ہے، جو عام طور پر کھانسی یا گلے کی خراش کے لیے استعمال ہوتی ہے مگر اس میں موجود اجزا جیسے یوکلپٹس آئل اور کافور ناخنوں کے فنگس کے علاج میں بھی ممکنہ طور پر مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ 2011 کی ایک تحقیق میں دریافت کای گیا کہ وکس پیروں کے ناخنوں کی فنگس کے علاج میں مثبت اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے کچھ مقدار میں وکس کو متاثرہ حصے پر دن میں کم از کم ایک بار لگائیں۔(ٹی ٹری آئل)ٹی ٹری آئل فنگل کش اور جراثیم کش خصوصیات رکھتا ہے، نیشنل سینٹر فارم کمپلیمنٹری اینڈ انٹریگیٹیو ہیلتھ کے مطابق چھوٹے پیمانے پر کلینیکل اسٹڈیز میں دریافت کیا گیا کہ ٹی ٹری آئل پیروں کے ناخنوں کے فنگس کے خلاف موثر موثر ثابت ہوسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اس تیل کو

متاثرہ حصے پر دن میں 2 بار روئی کی مدد سے لگائیں۔(اوریگانو آئل)2016 کی ایک تحقیق کے مطابق اس تیل میں موجود اجزا فنگل اور جراثیم کش ہوتے ہیں، پیروں کے ناخنوں کے فنگس کے علاج کے لیے اس تیل کو متاثرہ حصے پر روئی کی مدد سے دن میں 2 بار لگائیں، کچھ افراد اس تیل کو ٹی ٹری آئل کے ساتھ ملا کر بھی استعمال کرتے ہیں، تاہم ایسا کرنے سے الرجی ری ایکشن کا امکان بڑھتا ہے۔(زیتون کے پتوں کا ایکسٹریکٹ)زیتون کے پتوں کا ایکسٹریکٹ فنگل، جراثیم کش ہوتا ہے اور جسمانی مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایکسٹریکٹ کو متاثرہ حصے پر لگائیں یا کیپسول کی شکل میں بھی کھا سکتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق دن بھر میں 2 بار ایک سے 3 زیتون کے پتوں کے ایکسٹریکٹ کے کیپسول کھانا اسے لگانے کے مقابلے میں فنگس کے لیے زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں، اس طریقہ علاج کے لیے زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہیے۔(زیتون یا سورج مکھی کا تیل)زیتون کا تیل اور سورج مکھی کا تیل اوزون گیس سے بھرپور ہوتے ہیں، 2011 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ اوزون کی اس قسم فنگس کا باعث بننے والے

جراثیموں کو غیرمتحرک کرسکتے ہیں۔ ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اوزون والا سورج مکھی کا تیل ناخنوں کے فنگس کے لیے کسی فنگل کش مرہم سے زیادہ موثر ثابت ہوسکتا ہے۔اس مقصد کے لیے دن میں 2 بار تیل کو متاثرہ حصے پر لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔(سرکے کو بھی آزمائیں)واقعاتی شواہد میں اس خیال کی تائید کی گئی ہے کہ سرکے کو ناخنوں کی فنگس کے علاج کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، مگر پھر بھی یہ آزمانے کے لیے ایک محفوظ گھریلو ٹوٹکا ضرور ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک حصہ سرکہ اور 2 حصے گرم پانی کو ملا کر متاثرہ حصے کو اس میں 20 منٹ کے لیے ڈبو دیں۔(لسٹرین)لسٹرین میں مختلف اجزا جیسے مینتھول، تھیمول اور یوکلپٹس موجود ہوتے ہیں جو جراثیم اور فنگل کش ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ پیروں کے ناخنوں کی فنگس کے لیے ایک مقبول ٹوٹکا ہے۔ اس علاج کے حامی مشورہ دیتے ہیں کہ متاثرہ پیر کو اس محلول میں روزانہ 30 منٹ تک ڈبو کر رکھنا ہوگا۔(لہسن)2009 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ لہسن جراثیم اور فنگل کش خصوصیات رکھتا ہے، تو ممکنہ طور پر لہسن سے بھی اس فنگس کا علاج کیا جاسکتا ہے،

اس مقصد کے لیے روزانہ متاثرہ حصے پر کٹی ہوئی یا پسی ہوئی لہسن کو لگا کر 30 منٹ کے لیے چھوڑ دیں، مگر پیروں کو بو سے بچانے کے لیے زیادہ بہتر یہ ہے کہ لہسن کے کیپسول کا استعمال کریں۔(غذا تبدیل کریں)غذا اور صحت کے درمیان تعلق تو واضح ہے، آپ کی غذا جتنی صحت بخش ہوگی، اتنا ہی جسم مختلف عوارض جیسے پیروں کے فنگس پر قابو پانے میں کامیاب ہوسکے گا۔ اس مقصد کے لیے پرو بائیوٹیکس والا دہی، ناخنوں کی نشوونما کے لیے پروٹین کا زیادہ استعمال، ناخنوں کو بھربھرے پن سے بچانے کے لیے آئرن کا زیادہ استعمال، فیٹی ایسڈز سے بھرپور غذا، کیلشیئم اور وٹامن ڈی سے بھرپور غذا وغیرہ ناخنوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔(ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟)بیشتر کیسز میں پیروں میں فنگس ایک کاسمیٹک مسئلہ ہوتا ہے مگر کچھ بار یہ سنگین پیچیدگیوں کا باعث بھی بن جاتی ہے۔ اگر آپ ذیابیطس کے مریض ہیں تو پیروں کے ناخنوں میں فنگس سے پیروں میں ناسور یا دیگر مسائل کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ 2012 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ناخنوں کا شدید فنگس ٹانگوں کے مختلف مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ اگر آپ ذیابیطس کے

مریض ہیں یا جسمانی مدافعتی نظام کمزور ہے تو ان گھریلو ٹوٹکوں کی بجائے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔


اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین ویڈیو
Most Beautiful Azan -Mashallah

دلچسپ و عجیب

صحت

Forikhabar
            
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2019 forikhabar.com All Rights Reserved