300-320 certification material 1Z0-061 book CCBA course 98-367 software tutorial

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنی ٹوپی میں کیا رکھتے تھے؟ اسلامی تاریخ کا وہ راز جس سے کفار ہمیشہ شکست یافتہ ہوجاتے تھے۔۔۔ ایمان افروز واقعہ - Forikhabar
جمعرات‬‮   9   اپریل‬‮   2020


حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنی ٹوپی میں کیا رکھتے تھے؟ اسلامی تاریخ کا وہ راز جس سے کفار ہمیشہ شکست یافتہ ہوجاتے تھے۔۔۔ ایمان افروز واقعہ


امام حاکم نے اپنی “مستدرک روایت نمبر 5299 میں، اور طبرانی نے “الکبیر” میں، ابو یعلی نے اپنی مسند ابو یعلی (7183) میں ہاشیم کی سند سے۔ امام ابن کثیر نے البدایہ والنھایہ جلد 7 صفحہ 133 میں روایت کیا ہے۔جنگِ یَرمُوک کے بارہویں دن حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی

عَنْہ رومی سردار سے مقابلہ کر رہے تھے کہ ان کا گھوڑا بدکا اور زمین پر گرگیا جس سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی زمین پر گرگئے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مبارک ٹوپی بھی گرگئی ، حیرانی کی بات یہ ہے کہ جیسے ہی وہ ٹوپی گری آپ کو اپنی جان کی نہیں بلکہ اس ٹوپی کی فکر لگ گئی ۔جب حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ لشکر میں واپس آئے تو اُن سے پوچھا گیا کہ حضرت جب میدان جنگ میں ہرطرف تلواریں چل رہی تھیں ، اس وقت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنی ٹوپی کی فکر لگی ہوئی تھی، اس کی کیا وجہ تھی؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے حلق کروایا تو میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے مبارک بالوں میں سے چند بال مبارک اپنے پاس رکھ لیے۔سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: مَا تَصْنَعُ بِہٰوُلَائِ یَا خَالِدُ یعنی اے خالد ! تم ان بالوں کا کیا کرو گے۔۔۔؟ میں نے عرض کی: اَتَبَرَّکُ بِہَا یَا رَسُوْلَ اللہِ وَاسْتَعِیْنُ بِہَا عَلَی الْقِتَالِ قِتَالَ اَعْدَائِیْ یعنی یَارَسُوْلَ اللہ! میں آپ کے ان مبارک گیسؤوں سے تبرک حاصل کروں گا اور جنگوں میں اپنے دشمنوں کے قتال پر اللہ سے مدد طلب کروں گا۔یہ سن کر رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: لَا تَزَالُ مَنْصُوْراً مَا دَامَتْ

مَعَکَ یعنی اے خالد! جب تک یہ بال تمہارے پاس رہیں گے ان کے وسیلے سے ہمیشہ تمہاری مدد کی جاتی رہے گی۔سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :فَجَعَلْتُہَا فِیْ مُقَدَّمَۃِ قَلَنْسُوَتِیْ فَلَمْ اَلْقِ جَمْعًا قَطُّ اِلَّا اِنْہَزَمُوْا بِبَرَکَۃِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم یعنی پھر میں نے ان مبارک گیسؤوں کو اپنی ٹوپی کے اگلے حصے میں محفوظ کرلیا اور میں جب بھی اپنے دشمنوں سے مقابلے کے لیے جاتا ہوں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی برکت سے میرے دشمنوں کو شکست وذلت سے دوچار فرماتا ہے۔دوستو ! حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے آثار کو دنیا و آخرت کیلئے باعث برکت و نفع بنایا ، اور نبی اکرم شافع امت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے آثار سے برکت حاصل کرنے کے عمل کو جائز قرار دیا، چنانچہ یہ کام معاذ اللہ شرکیہ کاموں میں سے نہیں ہے، کیونکہ یہ بھی شرعی اسباب اختیار کرنے میں شامل ہے، اور ویسے بھی جس شخصیت نے اسکی اجازت دی ہے اسی نے شرک کا ڈٹ کر مقابلہ کیا،وہ مشہور بخاری شریف کی حدیث تو آپ نے سنی یا پڑھی ہی ہوگی جو صلح حدیبیہ کے وقت پیش آئی’’حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم سے (صلح حدیبیہ والی طویل روایت میں) مروی ہے کہ (مشرکین کا قاصد) عروہ بن مسعود جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ سے واپسی کے لئے اٹھا


اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین ویڈیو
کوہلی کی غصے سے گرائونڈ میں داخل ہونے کی کوشش...
بھارتیوجھوٹ بولنابندکرو،آپ نے پاکستان کاکوئی ایف 16نہیں گرایا...
Most Beautiful Azan -Mashallah

دلچسپ و عجیب

صحت

Forikhabar
            
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2020 forikhabar.com All Rights Reserved