300-320 certification material 1Z0-061 book CCBA course 98-367 software tutorial

پرویز مشرف کےوطن واپس آتے ہی ان کے ساتھ کیا ہو نے والا ہے ؟ اندر کھاتے چلنے والی بڑی گیم بے نقاب - Forikhabar
ہفتہ‬‮   18   جنوری‬‮   2020


پرویز مشرف کےوطن واپس آتے ہی ان کے ساتھ کیا ہو نے والا ہے ؟ اندر کھاتے چلنے والی بڑی گیم بے نقاب


اسلام آباد (ویب ڈیسک) پیپلز پارٹی کی رہنما پلوشہ خان نے کہاہے کہ پرویز مشرف نے واپس نہیں آنا تھا اور ان کوپھانسی بھی نہیں ہونی تھی لیکن تاریخ کے فیصلے میں ان کوپھانسی ہوگئی ہے۔نجی نیوز چینل ہم نیوز میں گفتگو کرتے ہوئے پلوشہ خان نے کہا کہ عمران خان خود پرویزمشرف کے اقدامات پر تنقیدکرتے رہے اور تحریک انصاف کی حکومت خود اس

کیس میں پیش ہوتی رہی، اگر یہ غیر آئینی تھا تو حکومت کیوں خصوصی عدالت میں ڈیڑھ سال تک پیش ہوتی رہی ؟پلوشہ خان کا کہناتھا ایک فیصلے عدالت کے ہوتے ہیں اورایک تاریخ کے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خدا اورتاریخ کے فیصلے ضروری ہیں ، پرویز مشرف نے واپس نہیں آنا تھا اور ان کوپھانسی بھی نہیں ہونی تھی لیکن تاریخ کے فیصلے میں ان کوپھانسی ہوگئی ہے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے خصوصی عدالت کی تشکیل کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر سابق صدر پرویز مشرف کا رد عمل بھی آگیا۔نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ بہت اچھا ہے جس کی انہیں بہت خوشی ہے، ہائیکورٹ نے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد اس معاملے پر بات کریں گے۔اپنی صحت کے حوالے سے سابق صدر نے کہا کہ ان کی طبیعت بہتری کی جانب گامزن ہے، وہ صحت یابی کیلئے دعائیں کرنے والوں کے شکر گزار ہیں۔خیال رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پرویز مشرف کے خلاف سنگین

غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں جسٹس امیر بھٹی اور جسٹس مسعود جہانگیر پر مشتمل بینچ نے خصوصی عدالت کے حوالے سے مختصر فیصلہ جاری کیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم کی غیر موجودگی میں اسے سزا سنانا غیر آئینی اور غیر اسلامی ہے۔پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں خصوصی عدالت نے 17 دسمبر کو سنگین غداری کیس کا فیصلہ سنایا تھا۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ پرویز مشرف کو ہر جرم کے بدلے میں سزائے موت سنائی جائے، فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ سابق صدر کو مثالی سزا دی جانی چاہیے۔ خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار سیٹھ نے فیصلے میں لکھا تھا کہ سزا پر عملدرآمد سے پہلے ہی اگر پرویز مشرف وفات پاجائیں تو ان کی میت کو پاکستان لایا جائے اور ڈی چوک میں 3 روز تک لٹکایا جائے۔


اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین ویڈیو
کوہلی کی غصے سے گرائونڈ میں داخل ہونے کی کوشش...
بھارتیوجھوٹ بولنابندکرو،آپ نے پاکستان کاکوئی ایف 16نہیں گرایا...
Most Beautiful Azan -Mashallah

دلچسپ و عجیب

صحت

Forikhabar
            
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2020 forikhabar.com All Rights Reserved