300-320 certification material 1Z0-061 book CCBA course 98-367 software tutorial

جرمن ویلنٹائن ڈے سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں ؟ دلچسپ اور معلوماتی رپورٹ ملاحظہ کیجیے - Forikhabar
جمعرات‬‮   9   اپریل‬‮   2020


جرمن ویلنٹائن ڈے سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں ؟ دلچسپ اور معلوماتی رپورٹ ملاحظہ کیجیے


برلن (ویب ڈیسک) ویلنٹائن ڈے جرمنی میں کوئی بڑا تہوار نہیں ہے۔ امریکا میں اس دن کے حوالے سے خرید و فروخت ریکارڈ توڑ رہتی ہے لیکن جرمن ’محبت کے اس دن‘ کو گلے لگانے سے گریزاں ہیں۔ اس دن کو منانے والے جرمنوں کی تعداد مزید کم ہو گئی ہے۔ جرمنی میں ویسے توویلنٹائن ڈے کا پہلا رقص سن 1950 ہوا تھا۔ اس پارٹی کا انعقاد شہر نیورمبرگ

میں کیا گیا تھا لیکن اس روایت کو جرمنی میں تھوڑی سی مقبولیت حاصل کرنے میں بھی کئی دہائیاں لگیں۔ ستر کی دہائی میں جرمنوں کی اکثریت ویلنٹائن ڈے کے نام تک سے ناواقف تھی۔ تاہم اسّی کی دہائی میں امریکی کلچر نے ایک نیا زور پکڑا اور ٹیلی وژن پروگراموں کی وجہ سے دیگر امریکی روایات کے ساتھ ساتھ ویلنٹائن ڈے بھی مشہور ہونے لگا۔ دوسری طرف جرمنی کی چاکلیٹ کی صنعت نے بھی اس دن کو اقتصادی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ اب کئی عشروں بعد جرمنی میں چودہ فروری کے حوالے سے تحائف کی خریداری کا رجحان بڑھنا شروع ہو رہا ہے۔ لیکن امریکا کے مقابلے میں اب بھی یہ تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ نیشنل ریٹیل فیڈریشن (این آر ایف) کے مطابق رواں برس پچپن فیصد امریکی شہری ویلینٹائن ڈے پر تحائف خریدنے کا ارادہ رکھتے تھے۔اس کے برعکس جرمنی میں صرف سترہ فیصد کا ارادہ تھا کہ وہ اپنے کسی عزیز کو چودہ فروری کے روز کوئی گفٹ دیں گے۔ جرمنی کی ریٹیل ایسوسی ایشن کے مطابق یہ تعداد گزشتہ برس کی نسبت دو اعشاریہ چھ فیصد کم ہے۔ جرمن مارکیٹ ریسرچ کے اعداد و شمار کے مطابق اس کی ایک

وجہ جرمنی میں آبادی کی تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال بھی ہے۔ اس ادارے کے مطابق اگر تو کسی خاتون کے پارٹنر کی عمر پچیس سے چوالیس کے درمیان ہے تو اس کے قوی امکانات ہوتے ہیں کہ وہ ویلنٹائن ڈے پر کوئی تحفہ دے سکتا ہے۔ اگر پارٹنر کی عمر پچپن برس سے زیادہ ہو جائے تو پھر چودہ فروری کو کسی تحفے کی امید کم ہی ہوتی ہے۔ جرمنی میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس تناظر میں اس کے امکانات کم ہی ہیں کہ مستقبل قریب میں ویلنٹائن ڈے امریکا کی طرح اس ملک میں مقبولیت حاصل کر سکے۔تازہ جاری ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق رواں برس جرمنی میں چودہ فروری کو منانے کے لیے پھولوں، چاکلیٹس، دیگر تحائف اور ڈنر وغیرہ پر ایک ارب یورو خرچ کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے برعکس امریکا میں ساتئس ارب ڈالر سے بھی زیادہ خرچ کیے جائیں گے۔


اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین ویڈیو
کوہلی کی غصے سے گرائونڈ میں داخل ہونے کی کوشش...
بھارتیوجھوٹ بولنابندکرو،آپ نے پاکستان کاکوئی ایف 16نہیں گرایا...
Most Beautiful Azan -Mashallah

دلچسپ و عجیب

صحت

Forikhabar
            
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2020 forikhabar.com All Rights Reserved