300-320 certification material 1Z0-061 book CCBA course 98-367 software tutorial

نیند کی حالت میں ہمارے جسم کیساتھ کیاہوتاہے،جانیں - Forikhabar
منگل‬‮   31   مارچ‬‮   2020


نیند کی حالت میں ہمارے جسم کیساتھ کیاہوتاہے،جانیں


نیندکوعارضی موت بھی کہا جاتاہے ۔ہم میں سے بہت سے افرادنیند میں باتیں کرتےہیں اورچلتے پھرتے ہیں لیکن جب وہ جاگتے ہیں توانہیں ہرگز یادنہیں رہتاکہ انہوں نے نیندکے دوران کیاکیا۔جب ہم گہری نیندسوتے ہیں توہم تقریباً مفلوج ہوجاتے ہیں اورچلنے پھرنے کے قابل بھی نہیں رہتے گوکہ نیند کے دوران ہمیں چلنے پھرنے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن اس

کاتلخ تجربہ افرادکوہوتاہے جونیندمیں چلنے کی بیماری کاشکارہوتے ہیں ایسے افرادجب گہری نیند میں اٹھ کرچلناشروع کرتے ہیں توچند منٹ تک حرکت کرنے سے معذور ہوتےہیں اوراس دوران ان کے گرنے اورچوٹ لگنے کااندیشہ بھی ہوتاہے۔گہری نیند کے دوران بند پپوٹوں کے نیچے ہماری آنکھیں نہایت تیزی سے حرکت کرتی ہیں۔ یہ حرکت دراصل اس خواب پر توجہ مرکوز رکھنے کے لیے ہوتی ہے جو ہم نیند کے دوران دیکھ رہے ہوتے ہیں۔سونے کے دوران ہمارے جسم کی نشونما اور افزائش ہوتی ہے۔ اس دوران ہماری ہڈیاں، پٹھے، بال اور خلیات وغیرہ بڑھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سوتے ہوئے ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننے چاہئیں تاکہ جسم کو بڑھنے اور نشونما پانے میں کوئی دقت نہ ہو۔ہمارے جاگنے کے دوران حلق کو کھلا رکھنے والے اعصاب دوران نیند سست پڑجاتے ہیں جس سے حلق سے ہوا کی آمد و رفت کا راستہ تنگ ہوجاتا ہے۔ یہ عمل خراٹوں سمیت دیگر ناخوشگوار آوازوں کا سبب بنتا ہے۔بعض افراد جب نیند سے سو کر اٹھتے ہیں تو ان کے جبڑوں میں شدید درد ہوتا ہے او وہ سوجے ہوئے بھی ہوتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ وہ نیند کی حالت میں دانت

پیسنے کی عادت کا شکار ہوتے ہیں جسے برکسزم کہا جاتا ہے۔ تاہم یہ عمل ہر شخص کے ساتھ رونما نہیں ہوتا۔سائنس کی تمام تر ترقی کے باوجود نیند کے دوران آنے والے خواب تاحال ایک اسرار ہیں۔ تاہم ماہرین اس کی ایک سادہ سی توجیہہ پیش کرتے ہیں کہ نیند کی حالت میں جب ہمارا دماغ پرسکون ہوتا ہے تب وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرتا ہے۔ہمارا دماغ ہمارے اندر موجود مختلف معلومات، ماضی کی یادیں، حال میں گزرے ہوئے واقعات، مستقبل کے خوف اور لاشعور میں بیٹھی ہوئی باتیں، ان سب کو ملا کر ایک نئی کہانی تخلیق دے ڈالتا ہے جو خواب کی صورت ہمیں نظر آتی ہیں۔بعض افراد نیند کے دوران محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک زوردار دھماکے کیی آواز سنی ہے۔ اس آواز سے ان کی آنکھ کھل جاتی ہے اور جاگنے کے بعد وہ بے حد خوفزدہ اور گھبرائے ہوئے ہوتے ہیں۔لیکن حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا، ایسے موقعے پر حقیقی زندگی بالکل معمول کے مطابق ہوتی ہے۔ یہ ایک قسم کا سنڈروم ہے جو جسمانی طور پر تو نقصان نہیں پہنچاتا البتہ نفسیاتی و دماغی طور پر بہت سی الجھنوں میں مبتلا کرسکتا ہے۔نیویارک کی روچسٹر یونیورسٹی میں

کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق جب ہم سوتے ہیں تو اس دوران ہمارا دماغ دن بھر میں جمع کی گئی معلومات کا جائزہ لیتا ہے۔ دماغ ان تمام معلومات میں سے بے مقصد معلومات کو ضائع کردیتا ہے۔اس طرح دراصل دماغ اپنے آپ کو چارج کرتا ہے تاکہ اگلے دن تازہ دم ہو کر آپ کے اندر کی تخلیقی صلاحیتوں کو بیدار کرسکے۔


اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین ویڈیو
کوہلی کی غصے سے گرائونڈ میں داخل ہونے کی کوشش...
بھارتیوجھوٹ بولنابندکرو،آپ نے پاکستان کاکوئی ایف 16نہیں گرایا...
Most Beautiful Azan -Mashallah

دلچسپ و عجیب

صحت

Forikhabar
            
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2020 forikhabar.com All Rights Reserved