300-320 certification material 1Z0-061 book CCBA course 98-367 software tutorial

’ما ں جی ‘ - Forikhabar
منگل‬‮   31   مارچ‬‮   2020


’ما ں جی ‘


گھر میں داخل ہوا تو دیکھا بیوی بیٹھی رو رہی ہے ،کیا ہوا، یہ آنکھیں کیوں لال کر رکھیں ہیں، سب خیریت تو ہے نا؟ ۔۔میں نے پوچھا۔آج ، اس کمینے نے ، بیوی کے کہنے پہ اس بڑھیا کو پھر مارا ہے ، وہ پھر ہچکیوں سے رونے لگی ۔تمہیں کیا ۔ وہ اس کی ماں ہے ، تمہاری نہیں اور پھر بڑھیا زبان چلاتی ہو گی ، بہو کے معاملات میں دخل دیتی ہوگی ، میں نے اس کا غم

غلط کرنے کے لیے کہا ۔۔۔!زبان چلاتی ہو گی ۔۔؟ معاملات میں دخل دیتی ہوگی ۔۔؟ آپ کو کچھ پتا بھی ہے ، اس بیچاری کو فالج ہے ، اٹھنے بیٹھنے کے لیے سہارے کی محتاج ہے ۔ اٹک اٹک کر اپنی بات پوری کرتی ہے ۔ بیوی نے تلخی سے جواب دیا ۔ پہلے تم نے کبھی بتایا نہیں کہ اس کو فالج ہے ۔ میں نے انجان بنتےہوئے کہا ۔ہزار دفعہ تو بتایا ہے مگر آپ کو کپڑوں کے علاوہ کچھ یاد رہے تو نا ، بیوی بولی۔ اچھا چھوڑو ۔۔! ہم کر بھی کیا سکتے ہیں ؟  میں نے موضوع بدلنے کی کوشش کی ۔۔میرا دل کرتا ہے کہ بڑھیا کو اپنے گھر لے آؤں کچھ دنوں کے لیے ۔میری بیوی نے کہا۔ کیا ۔۔ ۔۔کیا کہا ۔۔۔؟ پاگل ہو گئی ہو ؟پرائی مصیبت اپنے گلے ڈالو گی ۔۔ مجھے اس کی سوچ پہ غصہ آگیا ۔۔صرف ہفتے بھر کے لیے ۔۔ اس نے میرے غصے کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا ۔۔ شاید وہ پہلے سے ہی سب پلان بنا کے بیٹھی تھی ۔۔نہیں ، نہیں ۔۔ یہ ناممکن ہے ۔۔ اور پھر وہ کیوں دینے لگا اپنی ماں ہمیں ۔۔ میں نے کہا ۔اس کی بیوی کئی مرتبہ کہہ چکی ہے کہ بڑھیا ، کہیں دفع تو ہو نہیں سکتی ، کتے کی سی جان ہے ، مرتی بھی نہیں ۔۔ بیوی نے کہا اچھا ، یہ کہتی ہے وہ ۔۔؟؟ میں نے بیوی کا دل رکھنے کے لیے کہا ۔۔بساب آپ مان

جائیں اور اس کو اپنے گھر لے آئیں ۔۔ یہ کہتی ہوئی وہ میرے پہلو میں آ بیٹھی ۔۔ اور یہی اس کا خطرناک حملہ تھا اپنی بات منوانے کا ۔۔۔اچھا جی اب اس بڑھیا کو گھر لانے کی ذمہ داری بھی مجھ پر ڈال رہی ہو اور یہ تو سوچو کہ تم اس کوسنبھال بھی لو گی ؟ ۔۔ میں نے کہا ۔اپنے بچے تو ہیں نہیں ، میں بھی گھر میں سوائے ٹی وی دیکھنے کے اور کیا کرتی ہوں ۔۔ چلو وہ آ جائے گی تو میرا دل بھی بہلا رہے گا ۔ اس نے اداسی سے کہا۔ ہماری شادی کو دس سال ہوگئے تھے مگر اولاد سے محرومی تھی ۔۔ میں نے سوچا — چلو بات کر کے دیکھنے میں حرج نہیں ہے ،کونسا وہ اپنی ماں ، ہمیں دینے پہ راضی ہوجائے گا ۔۔ اگر راضی ہو گیا تو ۔۔؟ میں نے سوچاپھر بھی ایک ہفتے کی ہی تو بات ہے ،اگر بعد میں اپنے ہی گلے پڑ گئی تو ۔۔؟؟ اگر وہ بڑھیا مستقل گلے پڑ گئ تو ۔۔ میں نے اپنے خدشے کا اظہار ، بیوی سے کیا ۔۔یہ تو اور اچھی بات ہے ۔۔ اس نے خوش ہو تے ہوئے کہا ۔۔سچ کہتے ہیں ۔۔ عورت بے وقوف ہوتی ہے ۔۔ میں نے دل میں سوچا ۔۔!اگلے دن شام کو کافی سوچ بچار کے بعد میں ان کے گھر گیا اور کچھ بات کرنے کے بہانے ڈرائنگ روم میں جا بیٹھا ۔ ماں جی کے بیٹے نے جھوٹے منہ بھی چائے کا

نہ پوچھا تو میں نے اپنے پلان کے مطابق اس سے کہا کہ میری بیوی ، فالج کا علاج قران پاک سے کرنا جانتی ہے اور وہ آپکی والدہ کا علاج کرنا چاھتی ہے ۔ یہ سن کر اس نے کسی خوشی کا اظہار نہ کیا۔ تو میں نے بات جاری رکھی ۔۔ بھائی صاحب اس میں مسئلہ یہ ہے کہ آپ کی والدہ کو ہفتہ بھر ہمارے ہی گھر پر رہنا ہوگا ۔۔! آپ فکر نہ کریں ، ہم ان کا اچھے سے خیال رکھیں گے ۔ یہ سن کر اس کے چہرے پہ شرمندگی اور خوشی کے ملے جلے اثرات پیدا ہو گئے۔۔اس نے تھوڑی سی بحث کے بعد اجازت دے دی ۔ میں نے اٹھتے ہوئے کہا کہ علاج میں پندرہ بیس دن بھی لگ سکتے ہیں، اس نے اور بھی خوشی محسوس کی ۔ کہنے لگا ۔۔ سلیم صاحب !میں تو چاہتا ہوں کہ میری ماں ٹھیک ہو جائے ، بھلے مہینہ لگ جائے ۔۔!اور یوں وہ بڑھیا ہمارے گھر منتقل ہو گئی ، بس وہ بڑھیا کیا تھی، سفید روئی کا گالہ سی تھی ۔ نور کا اک ڈھیر سا تھا ، لاغر سی ، کمزور سی ، جیسے زمانے بھر کے غم ، اس کے نورانی جھریوں بھرے چہرے پہ تحریر تھے ۔ آنکھوں کے بجھتے چراغ ۔ کپکپاتے ہونٹ ۔مناسب خوراک اور دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے حالت اور زیادہ خراب تھی ۔۔ میری بیوی تو تن ، من ،دھن

سے اس کی سیوا میں جٹ گئی ۔ اس کے لیے ہر چیز نئی خریدی گئی ۔ بستر ، کمبل ، چادریں ، کپڑے ۔اچھی خوراک ، اور خدمت سے اماں کے چہرے پہ رونق آنے لگی ۔۔پتا ہی نہ چلا ،مہینہ گزر گیا ۔۔ پہلے اس کی بہو ہر دو دن بعد آتی رہی ، پھر چار دن کا وقفہ ہوا ، پھر ہفتہ ہونے لگا ۔ اماں کو واپس لے جانے کی بات نہ اس نے کی نہ ہم نے ۔۔دوسرا مہینے میں وہ ایک ہی دفعہ آئی ۔ گھر کی مصروفیت کا رونا روتی رہی ۔ تیسرے مہینے کے بعد ، اس نے آنا بند کر دیا ۔۔ میں نے بیوی سے کہہ دیا کہ اب اماں ، تمہاری ذمہ داری بن گئی ہے ، اب تم سنبھالو ۔ بیوی نے خوشی کا اظہار کیا ۔یہ غالباً ساتواں مہینہ تھا کہ اس آدمی کو اس کی بیوی نے قتل کردیا اور بعد میں وہ خود بھی پکڑی گئی اور یوں اماں صرف ہماری ہی ہو کے رہ گئیں ۔ادھر جیسے جیسے اماں کی توانائ بحال ہو رہی تھی چہرے پہ رونق اور مسکان آنے لگی تھی ویسے ویسے میرا کاروبار ترقی کرنے لگا ۔ ایسے لگتا تھا جیسے مجھ پر دھن برسنے لگا ہو ۔ سال بھر میں میری تین دکانیں ہو چکیں تھیں ۔ تیسرے سال ہم تینوں ، میں ، بیوی اور اماں نے حج کی سعادت حاصل کی ۔ گلستان جوہر میں پانچ سو گز کا بنگلہ خرید کر وہاں شفٹ ہوگئے ۔

اماں ، ہمارے ساتھ سات سال رہیں ،ہر پل ان کاہمیں دعائیں دیتے گزرتا اورہم میاں بیوی ، خوشی سے پھولے نہ سماتے ۔ عجیب کرامت یہ ہوئی کہ اماں کی برکت اور دعاؤں سے ، اللہ رب العزت نے مجھے اولاد سے نوازا ۔آج وہ ہمارے درمیاں نہیں ، مگر ان کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے ، جیسے کوئ اپنا کہیں کھو گیا ہو ۔ ہم نے بھی کبھی ان سے ان کا نام تک نہ پوچھا ۔ بس ان سے اک خلوص کا رشتہ تھا ۔پچھلے دنوں ، میری بیوی بہت خوش تھی ۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگی ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے ۔کیسا خواب ۔۔؟میں نے پوچھا:میں نے دیکھا ۔ کہ محشر کا دن ہے اور سب حیران و پریشان کھڑے ہیں ۔ ان میں ، میں بھی کھڑی ہوں کہ اتنے میں ، اماں آئیں اور میرا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگیں : منیرہ ۔۔! ادھر آ میرے ساتھ ، تجھے پل صراط پار کرا دوں ۔ میں ان کے ساتھ چلی ، ہم ایک باغ سے گزرے ، تھوڑی دیر میں باغ ختم ہوا تو ایک بڑا سا میدان آگیا تو اماں کہنے لگیں بس ہو گیا پل صراط پار ۔۔ میں حیران ہوئی ۔ تو وہ بھی زور سے ہنسنے لگیں، پھر میری آنکھ کھل گئی ۔۔!مبارک ہو بھئی ۔۔ بہت اچھا خواب ہے مگر تمہیں میرا خیال نہ آیا ۔ ؟قسم سے میں اتنی پریشان تھی کہ ۔۔ !چلو ۔ خیر ہمیں

بھی کوئ نہ کوئ مل ہی جائے گا جو پل صراط پار کرا دے ۔۔!
آمین ۔۔ بیوی نے جیسے دل کی گہرائیوں سے کہا ۔۔اور پھر اس کو میں نے یہ نہیں بتایا کہ ایسا خواب میں بھی دیکھ چکا ہوں بس فرق یہ تھا کہ اماں نے میرا ہاتھ پکڑتے وقت کہا تھا : چلو ۔۔تمہیں منیرہ کے پاس لے چلوں وہ پل صراط کے پار تمہارا انتظار کر رہی ہے..!!!


اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین ویڈیو
کوہلی کی غصے سے گرائونڈ میں داخل ہونے کی کوشش...
بھارتیوجھوٹ بولنابندکرو،آپ نے پاکستان کاکوئی ایف 16نہیں گرایا...
Most Beautiful Azan -Mashallah

دلچسپ و عجیب

صحت

Forikhabar
            
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2020 forikhabar.com All Rights Reserved