300-320 certification material 1Z0-061 book CCBA course 98-367 software tutorial

طیب اردگان پاکستان آئے تو عمران خان انہیں خوش آمدید کہنے ائیرپورٹ پر گئے انکی گاڑی بھی خود ڈرائیو کی مگرواپسی پر ائیرپورٹ پر انہیں صرف حماد اظہر نے الوداع کہا - Forikhabar
منگل‬‮   31   مارچ‬‮   2020


طیب اردگان پاکستان آئے تو عمران خان انہیں خوش آمدید کہنے ائیرپورٹ پر گئے انکی گاڑی بھی خود ڈرائیو کی مگرواپسی پر ائیرپورٹ پر انہیں صرف حماد اظہر نے الوداع کہا


لاہور (ویب ڈیسک) خاور نیازی میرے ایسے بے تکلف دوست ہیں، کہ جو بھائیوں کا درجہ اختیار کر گئے ہیں، ان سے میں دل کی بات کرسکتا ہوں، حتیٰ کہ میں وہ راز بھی ان پہ منکشف کرنے سے باز نہیں آتا، جن کے بارے میں دانشواران عالم کا خیال ہے کہ کسی دوست سے بھی کوئینامور کالم نگار نواز خان میرانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ راز

منکشف نہیں کرنا چاہیے، کہ جو منحرف ہونے کی صورت میں دوست بطور ہتھیار استعمال کرسکے، بقول شاعر نیر۔۔۔کیا جانے گا کوئی ُسن کر۔۔نیر قصہ مبہم دل کا !۔۔مگر میں اس معاملے میں بھی خاور نیازی صاحب، کو دیسی مثال کے شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری الذمہ قرار دیتا ہوں، کہ ”اپنے“ مارتے بھی ہیں، تو دشمنوں کی طرح دھوپ میں نہیں، بلکہ چھاؤں میں ڈالتے ہیں خاور نیازی صاحب نے فون پہ اچانک یہ مجھ پہ سوال داغ دیا، کہ جب کوئی غیرملکی سربراہ خصوصاً متحدہ عرب امارات یا سعودی عرب کے سربراہ وطن عزیز تشریف لاتے ہیں، تو ہمارے وزیراعظم جناب عمران احمد خان نیازی اُنہیں خود لینے ایئرپورٹ پہ جاتے ہیں ، بلکہ وہاں سے ان کی گاڑی خود ڈرائیور کرکے اُنہیں ایوان وزیراعظم بھی لے آتے ہیں، مگر مجال ہے، کہ اُنہیں کسی کو کبھی بنی گالہ سینکڑوں کنال والے گھر میں لے گئے ہوں، مبادا کسی بھی غیر ملکی مہمان کا یہ تاثر پختہ نہ ہو جائے، کہ پاکستان ایک نہیں، دو تین درجہ بندیوں میں بٹا ہوا ہے، اس حالت بے زار سے زار زار ہوکر بلکہ رخ لالہ زار ہوکر کشتی سے بوجھ اتارنے کے مصداق ایک سعی آخر کے طورپر بقول

سید مظفر علی شاہ۔۔ہوئے ناپید جب اسباب سارے۔۔ہمیں جینے کی پھر حاجت ہوئی ہے۔۔نہیں ہے دوش کچھ ان موسموں کا۔۔مسلسل برہمی عادت ہوئی ہے۔۔جنون میں اپنی کیا حالت ہوئی ہے۔۔اذیت باعثِ راحت ہوئی ہے۔۔قارئین میں یہ عرض کررہا تھا کہ نیازی صاحب نے مجھ سے پوچھا،کہ کیا وجہ ہے کہ ابھی حال میں ترکی کے حکمران جناب طیب اردوگان ، جب پاکستان تشریف لائے، تو جناب عمران احمدخان نیازی خود ان کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ پہ تشریف لے گئے، اور سرخ قالین بچھا کر ان کا استقبال کیا گیا، مگر کیا وجہ ہے، کہ ان کو الوداع کرنے کے لیے پاکستانی پروٹوکول اورصریحاً اسلامی اقدارکی خلاف ورزی کرتے ہوئے، انہیں الوداع کرنے کے خود ایئرپورٹ پہ نہیں گئے، بلکہ اپنے ایک وزیر مملکت حماد اظہر کو ایئرپورٹ پر اُنہیں رخصت کرنے کے لیے بھیج دیا۔خاور نیازی صاحب نے جب اس صورت حال پہ میرا تبصرہ مانگا، اور ردعمل جاننے کی کوشش کی، تو میں نے عرض کی، کہ اس کا تو سیدھا سادا جواب تھا، کہ جناب طیب اردوگان نے سوائے زبانی جمع خرچ کے اور کچھ نہیں کیا، چند ایک معاہدات، جو وہ کرکے گئے ہیں، جو معمول کی بات ہے اور کچھ

تجارتی معاہدے، جن کو آہستہ آہستہ ایک ارب ڈالر سے بڑھا کر آئندہ سالوں میں پانچ ارب ڈالر تک بڑھا دیا جائے گا، جہاں تک کشمیر میں پاکستان کا ساتھ دینے کا تعلق ہے، تو وہ اس لیے بے معنی ہے کہ ترکی سے ہمارے تعلقات تو خلافت عثمانیہ سے بے مثال رہے ہیں ،مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں زمانہ طالب علمی میں ایک دفعہ خاندان کے ساتھ سعادت حج کے لیے سعودی عرب گیا تھا، تو حرمین شریفین میں ایک طویل العمر ترک بزرگ ، میرے بالکل برابر میں بیٹھے ہوئے تھے، میرے شاید خدوخال دیکھ کر انہوں نے ٹھیٹھ ترکی زبان میں اور اشاروں سے مجھ سے پوچھاکہ آپ پاکستانی ہیں، جب میں نے انہیں اثبات میں جواب دیا، تو انہوں نے مجھے گلے سے لگا لیا، اور پیشانی پہ بوسہ دیا، اور مجھ سے بے ساختہ ترکی میں باتیں شروع کردیں، مگرخداگواہ ہے، کہ مجھے سوائے پاکستان کے کوئی اور لفظ سمجھ آیا ہو، مگر ان کی پاکستان سے والہانہ عقیدت ومحبت دیدنی تھی۔قارئین یہ بات، آپ نے بھی ضرور دل سے محسوس کی ہوگی، کہ ترکی کے عوام، پاکستان کے عوام سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، اس لیے کشمیر اور فلسطین پہ ترکی کا مو¿قف بڑا واضح ہے، جو آج سے ہی نہیں

بلکہ مفکرملت جناب علامہ اقبالؒکے زمانے سے ہے، جو ناقابل تبدیل اور ترمیم ہے، اقبالؒ فرماتے ہیں، کہ۔۔زمانہ اب بھی نہیں، جس کے سوزسے فارغ۔۔میں جانتا ہوں، وہ آتش ترے وجود میں ہے۔۔قارئین ، اگر یہ آتش علامہ اقبالؒ کی زندگی میں لگ چکی تھی تو آپ کا کیا خیال ہے، کہ آتش اب انگارہ نہیں بن چکی ہوگی؟ یہی وجہ ہے، فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ پاکستان تو پتہ نہیں، مگر ترکوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ قارئین خاور نیازی صاحب ایسے میرے پیچھے پڑے کہ مجھ سے جواب لے کر ہی چھوڑا کہ عمران احمد خان نیازی ، ترکی کے جناب طیب اردوگان کو خود الوداع کرنے ایئرپورٹ پہ کیوں نہیں گئے، اور ایک وزیرمملکت کو کیوں بھیج دیا میں نے ان کی خدمت میں دست بستہ عرض کیا، کہ نیازی صاحب ، کو لت پڑ گئی ہے غیرملکی سربراہوں سے ڈالر لینے کی اور افیون اور چرس کو دوائیوں میں استعمال کرنے کی مگر طیب اردوگان نے سوائے زبانی جمع خرچ کے، ایک ٹکہ تو عمران خان کے ہاتھ میں رکھا نہیں، شکر کریں، کہ انہوں نے پھر بھی وزیر مملکت بھیج دیا، وگرنہ ان کا تو شاید دل کرتا تھا، کہ انہیں اکیلا ہی واپس بھیجتے اس کیفیت کو دیکھ کریار کہتے ہیں ، کہ۔۔

کیوں چپ سادھی کچھ بول پیا۔۔کیوں پل پل پینداہول پیا !


اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین ویڈیو
کوہلی کی غصے سے گرائونڈ میں داخل ہونے کی کوشش...
بھارتیوجھوٹ بولنابندکرو،آپ نے پاکستان کاکوئی ایف 16نہیں گرایا...
Most Beautiful Azan -Mashallah

دلچسپ و عجیب

صحت

Forikhabar
            
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ نیوز محفوظ ہیں۔
Copyright © 2020 forikhabar.com All Rights Reserved